Pages

Monday, March 5, 2012

**EHSAAS**


موسم کی پہلی بارش، گھمبیر خامشی ہے
اور آسماں پہ جیسے، یادوں کی روشنی ہے

آنکھوں سے تیری مجھ کو، پیغام مل رہے ہیں
حیران ہوں میں اب کے، کیسی ہوا چلی ہے

زلف سیاہ تیری، دوش ہوا پہ بکھری
خوشبو تری وفا کی، سانسوں میں بس رہی ہے

گردن میں میری تو نے، بانہیں جو ڈال دی ہیں
روح وفا کی گرمی، محسوس ہو رہی ہے

تجھ کو گلے لگا کر، کھلتے ہیں پھول دل میں
اب درمیاں ہمارے، سچائی جاگتی ہے

دل ہے اسیر جس کا، وہ ایسی ہے محبت
خوابوں کی زندگی بھی، تعبیر بن گئی ہے

رنگ وفا سے دل میں، سبزہ بچھا ہوا ہے 

 چاہت نادر میری، کچھ اور چاہتی ہے


  شاعر- : سید نادر علی شاہ:

1 comment: